ابنا: ایٹمی توانائي کی بین الاقوامی ایجنسی ، آئي اے ای اے ، نے ایرانی ایٹمی سائنس داں مصطفی احمدی روشن کے قتل کے دس دن بعد اپنی خاموشی توڑتے ہوئے دعوا کیا ہے کہ اس نے اپنی رپورٹوں میں شہید مصطفی احمدی روشن کے نام کا انکشاف نہیں کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق آئي اے ای اے کے ترجمان نے ان خبروں کے ردعمل میں کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں نے کچھ دنوں قبل احمد روشن سے ، جو دس دن قبل ایک بم دھماکہ میں شہید ہوگئے تھے ، ملاقات کی تھی کہا کہ وہ اس بارے میں کسی بھی صورت میں اظہار خیال نہیں کریں گے کیونکہ ہم نے احمد روشن کے بارے میں اطلاعات کو عام نہیں کیا ہے۔
احمدی روشن شریف صنعتی یونیورسٹی کے پروفیسر تھے اور ان کو بھی اسی طریقہ سے ، یعنی گاڑی پر مقناطیسی بم لگا کر ، شہید کیا گيا تھا جیسا کہ اس سے پہلے موساد اور سی آئي اے کے ایجنٹ کئی دیگر شخصیات کو قتل کرچکے ہیں۔ایرانی حکام کاخیال ہے کہ آئي اے ای اے سے ایران کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ اہم افراد کے ناموں کا انکشاف ہوا ہے اور اس طرح دہشت گردوں کو ناجائز فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم ہوا ہے۔ان حالات میں کہ آئي اے ای اے کی اطلاعات منظر عام پر آنے کے بارے میں اس بین الاقوامی ادارے کے ترجمان نے ارنا کے نامہ نگار کے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا ویانا میں سفارت کاروں نے کہا ہے کہ آئي اے ای اے کے سربراہ یوکیو آمانو کو اس بارے میں جواب دہ ہونا چاہئے۔
اس رپورٹ کے مطابق آئي اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے حالیہ اجلاس میں یوکیو آمانو کو ان کی کارکردگي اور اس بین الاقوامی ادارے سے اہم اطلاعات منظر عام پر آنے کے پیش نظر ہدف تنقید بنایا گیا تھا اور بورڈ آف گورنرز میں مختلف ممالک کے نمائندوں نے زور دے کر کہا کہ یوکیو آمانو کو اس بابت جواب دہ ہونا چاہئے. ........
/169